مہر خبررساں ایجنسی نےایسوسی ایثڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع اور ناسا میں کام کرنے والے سائنسدان کوامریکی پولیس نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیاہے۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق52سالہ امریکی سائنسدان اسٹیورٹ ڈیوڈ نوزیٹ پرقومی دفاع سے متعلق اہم خفیہ معلومات دانستہ طور پراسرائیل کوفروخت کی کوشش کرنے پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق نوزیٹ سے ستمبر میں ایف بی آئی کے ایک ایجنٹ نے اسرائیلی ایجنٹ بن کررابطہ کیا۔اگلے چند ہفتوں میں نوزیٹ نے اسے بھاری رقم کے بدلے امریکی سیٹلائٹ،پیشگی اطلاع دینے والے نظام،دفاعی اور حملوں کی حکمت عملی اور دیگر انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں، جس کے بعدانھیں میری لینڈ سے گرفتارکرلیا گیا۔حکومتی وکیل کے مطابق نوزیٹ کوانتہائی خفیہ راز دوسرے ملک کو دینے کی کوشش کرنے پر عمرقید کی سزاسنائی جاسکتی ہے تاکہ کوئی بھی شخص ناجائز رقم کے حصول کیلئے امریکہ کی سلامتی سے کھیلنے کی جرأت نہ کرسکے۔محکمہ انصاف کے مطابق نوزیٹ کا شمار امریکہ کے بڑے سائنسدانوں میں ہوتا ہے اور انہیں مکمل سکیورٹی کلیرنس حاصل رہی ہے۔وہ ناسا،پینٹاگون ،محکمہ توانائی، اور وائٹ ہاوس میں اہم عہدوں پر کام کرچکے ہیں مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے نہ صرف مشرق وسطی بلکہ امریکہ کو بھی خطرات لاحق ہیں لیکن اس کے باوجود امریکہ اسرائيل کی مکمل حمایت کرتا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت یہودیوں اور صہیونیوں کے نرغے میں ہے۔
آپ کا تبصرہ